پاکستان خصوصاً سندھ کے ہزاروں نوجوان سرکاری نوکریوں کے خواب لیکر برسوں محنت کرتے ہیں، مگر جب 5 سے 15 گریڈ کی نوکریوں میں بھی انٹرویو لازمی کر دیا جاتا ہے تو یہ نظام شفافیت کے بجائے سفارش، جان پہچان اور ناانصافی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ نوجوان جو محنت اور میرٹ پر یقین رکھتے ہیں، وہ اس پالیسی کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ نوجوان ایک مضبوط آواز بلند کریں — "نوجوانو جاگو!"
---
انٹرویو پالیسی کیوں ختم ہونی چاہیے؟
1. انٹرویو سفارش کو بڑھاتا ہے
5 سے 15 گریڈ تک کی نوکریاں بنیادی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان کے لیے تحریری ٹیسٹ، تعلیمی قابلیت اور بنیادی مہارت کافی ہوتی ہے۔ جب ایسے گریڈ کے لیے بھی انٹرویو رکھ دیا جاتا ہے تو سفارش اور ذاتی تعلقات امیدوار کے حق پر گہرا اثر ڈال دیتے ہیں۔ محنت کرنے والے نوجوان سفارش نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
---
2. تحریری امتحان ہی میرٹ کا اصل معیار ہے
تحریری ٹیسٹ ہر امیدوار کے لیے برابر ہوتا ہے۔ نہ کوئی سفارش، نہ تعلق، نہ دباؤ — صرف صلاحیت۔ اگر حکومت واقعی میرٹ چاہتی ہے تو بھرتیاں صرف تحریری امتحان اور نمبروں کی بنیاد پر ہونی چاہییں۔ چھوٹے گریڈز میں انٹرویو رکھنے کا کوئی معقول جواز نہیں۔
---
3. انٹرویو میں نمبر دینے کا کوئی واضح معیار نہیں
کسی کا لہجہ، کسی کا ظاہری اعتماد، کسی کی سفارش — اور چند منٹوں میں فیصلہ کر دیا جاتا ہے کہ کون نوکری کا حقدار ہے۔ یہ معیار نہ تو شفاف ہے اور نہ ہی قابلِ بھروسہ۔ اس سے محنت کش نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔
---
4. دیہی نوجوان زیادہ متاثر ہوتے ہیں
دیہی علاقوں کے امیدوار جنہیں اعتماد، ماحول یا رہنمائی کم میسر ہوتی ہے، وہ اکثر انٹرویو میں کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد برابری ہے، لیکن انٹرویو پالیسی اس مقصد کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
---
نوجوانوں کو کیا کرنا چاہیے؟
1. اجتماعی آواز اٹھائیں
سوشل میڈیا پر مہم چلائیں۔ فیس بُک، X، یوٹیوب، ٹک ٹاک — ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کریں۔ حکومت کو تب پتا چلتا ہے جب نوجوان متحد ہو کر بات کرتے ہیں۔